ایماں کا لطف پہلوئے تشکیک میں ملا
یہ چاند جب ملا شب تاریک میں ملا
برسوں رہا ہوں کاسۂ تنہائی ہو کے میں
اک دن حضور یار مجھے بھیک میں ملا
ہلکا سا اک لبوں کا اشارہ ہی تھا بہت
پھر جو ملا مجھے اسی تحریک میں ملا
زینہ مری بلندئ درجات کا بنا
تجھ کو جو یہ مزہ مری تضحیک میں ملا
کھایا تھا کس کے ہاتھ سے احساسؔ جی نے پان
خون بدن سب اس کی بس اک پیک میں ملا
غزل
ایماں کا لطف پہلوئے تشکیک میں ملا
فرحت احساس

