اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے
بلند ہم بھی یہ دست دعا نہیں کرتے
سر اہل عشق کے اکثر جھکا نہیں کرتے
اگر جھکے بھی کہیں پھر اٹھا نہیں کرتے
وہ بات ان کی نگاہیں بتائے دیتی ہیں
جسے وہ اپنی زباں سے ادا نہیں کرتے
دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس
چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے
امید عہد وفا اور ان بتوں سے شکیلؔ
جو بھول کر بھی کسی سے وفا نہیں کرتے
غزل
اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے
شکیل بدایونی

