EN हिंदी
اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے | شیح شیری
ihanat-e-dil-e-sabr-azma nahin karte

غزل

اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے

شکیل بدایونی

;

اہانت دل صبر آزما نہیں کرتے
بلند ہم بھی یہ دست دعا نہیں کرتے

سر اہل عشق کے اکثر جھکا نہیں کرتے
اگر جھکے بھی کہیں پھر اٹھا نہیں کرتے

وہ بات ان کی نگاہیں بتائے دیتی ہیں
جسے وہ اپنی زباں سے ادا نہیں کرتے

دلیل تابش ایماں ہے کفر کا احساس
چراغ شام سے پہلے جلا نہیں کرتے

امید عہد وفا اور ان بتوں سے شکیلؔ
جو بھول کر بھی کسی سے وفا نہیں کرتے