EN हिंदी
ہو چکا ناز منہ دکھائیے بس | شیح شیری
ho chuka naz munh dikhaiye bas

غزل

ہو چکا ناز منہ دکھائیے بس

مصحفی غلام ہمدانی

;

ہو چکا ناز منہ دکھائیے بس
غصہ موقوف کیجے آئیے بس

فائدہ کیا ہے یوں کھنچے رہنا
میری طاقت نہ آزمائیے بس

''دوست ہوں میں ترا'' نہ کہیے یہ حرف
مجھ سے جھوٹی قسم نہ کھائیے بس

آپ کو خوب میں نے دیکھ لیا
تم ہو مطلب کے اپنے جائیے بس

مصحفیؔ عشق کا مزہ پایا
دل کسی سے نہ اب لگائیے بس