EN हिंदी
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے | شیح شیری
hawas mein to na the phir bhi kya na kar aae

غزل

حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے

جون ایلیا

;

حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
کہ دار پر گئے ہم اور پھر اتر آئے

عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز
بہ سوئے باد یہ محمل میں بیٹھ کر آئے

کبھی گئے تھے میاں جو خبر کے صحرا کی
وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے

کوئی جنوں نہیں سودائیان صحرا کو
کہ جو عذاب بھی آئے وہ شہر پر آئے

بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا
پرندگان ہوا خاک پر اتر آئے

عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو
خیال خام کا تاوان تھا سو بھر آئے