EN हिंदी
ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم | شیح شیری
hasti ko apni shola-ba-daman karenge hum

غزل

ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم

قابل اجمیری

;

ہستی کو اپنی شعلہ بداماں کریں گے ہم
زنداں میں بھی گئے تو چراغاں کریں گے ہم

برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں خلاف ہوں
کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم

دامن کی کیا بساط گریباں ہے چیز کیا
نذر بہار نقد دل و جاں کریں گے ہم

ظلمت سے بے کراں تو اجالے بھی کم نہیں
ہر داغ دل کو آج فروزاں کریں گے ہم

اب دیکھتے ہیں کون اڑاتا ہے رنگ و بو
اپنا لہو شریک بہاراں کریں گے ہم

جن کو فریب شوق میں آنا تھا آ چکے
اب تو ترے کرم کو پشیماں کریں گے ہم