EN हिंदी
ہر طرف یار کا تماشا ہے | شیح شیری
har taraf yar ka tamasha hai

غزل

ہر طرف یار کا تماشا ہے

سراج اورنگ آبادی

;

ہر طرف یار کا تماشا ہے
اس کے دیدار کا تماشا ہے

عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط
جیت اور ہار کا تماشا ہے

خلوت انتظار میں اس کی
در و دیوار کا تماشا ہے

سینۂ داغ داغ میں میرے
صحن گل زار کا تماشا ہے

ہے شکار کمند عشق سراجؔ
اس گلے ہار کا تماشا ہے