ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر
جی لرز جاتا ہے ان غنچوں کو خنداں دیکھ کر
آخر آخر ہوش ہی وحشت بھی تھا حیرت بھی تھا
دل کو عالم آفریں صحرا بداماں دیکھ کر
شیوہ اپنا غم پرستی قبلہ اپنا خاک دل
روح غم کو پیکر خاکی میں انساں دیکھ کر
ہر تسلی سے سوا ہوتی گئی دل کی تڑپ
درد کچھ سے کچھ ہوا سامان درماں دیکھ کر
اس کو انعام خودی اور اس پر لطف بے خودی
وہ کرم کرتے ہیں ظرف اہل عرفاں دیکھ کر
معنی صورت میں ہم نے تیری صورت دیکھ لی
تیری قدرت دیکھ لی انساں کو انساں دیکھ کر
قبر فانیؔ پر میں وہ برچیدہ دامن اے نسیم
منتشر کر خاک لیکن ان کا داماں دیکھ کر
غزل
ہر تبسم کو چمن میں گریہ ساماں دیکھ کر
فانی بدایونی

