ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے
لے آئی شب غم کوئی مرتا بھی تو کیسے
اک آگ تھی جو پھونک رہی تھی دو جہاں کو
وہ دل سے مرے ہو کے گزرتا بھی تو کیسے
ہم پیاس کے ماروں نے عبث آس لگائی
برسا ہوا بادل تھا برستا بھی تو کیسے
گلچیں کی نظر تاک میں رہتی تھی برابر
غنچہ کوئی کھلتا بھی مہکتا بھی تو کیسے
تنکے کی رکاوٹ بھی نہ تھی غار کی تہ میں
پھر پھیلا ہوا پاؤں سنبھلتا بھی تو کیسے
سایہ نہ کوئی نقش قدم کوچہ نہ بازار
صحرا کے سفر میں تھا بھٹکتا بھی تو کیسے
سینے میں کوئی شعلہ نہ نظروں میں کہیں برق
شہرتؔ بھلا دل میرا بہلتا بھی تو کیسے

غزل
ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے
شہرت بخاری