ہنستے ہنستے وہ جو رویا
کوئی دیوانہ تھا گویا
دل کے دکھ سے دیکھو میں نے
آنکھوں کا یہ آنگن دھویا
آنسو پائے حیرت کیوں ہے
وہ کاٹا ہے جو تھا بویا
برس لگے پانے میں جس کو
اک لمحہ میں اس کو کھویا
ساری ساری رات میں جاگا
وہ میری آنکھوں میں سویا
غزل
ہنستے ہنستے وہ جو رویا
پریم بھنڈاری

