ہمیشہ کا یہ منظر ہے کہ صحرا جل رہا ہے
پر اب حیرت تو اس پر ہے کہ دریا جل رہا ہے
تمہیں فرصت ہو جینے سے تو اپنے پار دیکھو
پس دیوار ایام اک زمانہ جل رہا ہے
ذرا سی دیر کو شانے سے اپنا سر ہٹا لے
ترے رخسار کے شعلوں سے شانہ جل رہا ہے
سفر کرنا ہے اگلی صبح اور گرمئ پا سے
مرے بستر کا سارا پائتانہ جل رہا ہے
پگھل کر گر رہے ہیں میرے سر پر چاند تارے
سنا ہے آسماں کا شامیانہ جل رہا ہے
غزل
ہمیشہ کا یہ منظر ہے کہ صحرا جل رہا ہے
فرحت احساس

