EN हिंदी
ہمیشہ کا یہ منظر ہے کہ صحرا جل رہا ہے | شیح شیری
hamesha ka ye manzar hai ki sahra jal raha hai

غزل

ہمیشہ کا یہ منظر ہے کہ صحرا جل رہا ہے

فرحت احساس

;

ہمیشہ کا یہ منظر ہے کہ صحرا جل رہا ہے
پر اب حیرت تو اس پر ہے کہ دریا جل رہا ہے

تمہیں فرصت ہو جینے سے تو اپنے پار دیکھو
پس دیوار ایام اک زمانہ جل رہا ہے

ذرا سی دیر کو شانے سے اپنا سر ہٹا لے
ترے رخسار کے شعلوں سے شانہ جل رہا ہے

سفر کرنا ہے اگلی صبح اور گرمئ پا سے
مرے بستر کا سارا پائتانہ جل رہا ہے

پگھل کر گر رہے ہیں میرے سر پر چاند تارے
سنا ہے آسماں کا شامیانہ جل رہا ہے