EN हिंदी
ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے | شیح شیری
hamein jab apna taaruf karana paDta hai

غزل

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے

فرحت احساس

;

ہمیں جب اپنا تعارف کرانا پڑتا ہے
نہ جانے کتنے دکھوں کو دبانا پڑتا ہے

بہت سے ہنستے ہوؤں کو لگا کے رونے پر
بہت سے روتے ہوؤں کو ہنسانا پڑتا ہے

کسی کو نیند نہ آتی ہو روشنی میں اگر
تو خود چراغ محبت بجھانا پڑتا ہے

کسی کے قرب کی خواہش میں یوں بھی ہوتا ہے
کہ عمر بھر کے لیے دور جانا پڑتا ہے

غزال حسن کو گھر چاہیے پر اس کے لیے
خود اپنے آپ کو صحرا بنانا پڑتا ہے

تم اس طرف سے جو گزرو تو اتنا یاد رہے
کہ اس نواح میں ہم سا دوانہ پڑتا ہے

کسی صدا پہ بھی جاتے نہیں میاں احساسؔ
پر آنسوؤں کے بلاوے پہ جانا پڑتا ہے

اب آ رہا ہو کوئی حسن اس تصوف سے
تو ہم کو حلقۂ بیعت بڑھانا پڑتا ہے

خدا ہے قادر مطلق یہ بات کھلتی ہے تب
جب اس سے کام کوئی کافرانہ پڑتا ہے

بہت زیادہ ہیں خطرے بدن کی محفل میں
پر اپنی ایک ہی محفل ہے جانا پڑتا ہے

ہمارے پاس یہی شاعری کا سکہ ہے
الٹ پلٹ کے اسی کو چلانا پڑتا ہے

عجیب طرز تغزل ہے یہ میاں احساسؔ
کہ جسم و روح کو اک ساتھ گانا پڑتا ہے