ہماری آزمائش کا اگر کچھ غم نہیں ہوگا
تو پھر یہ سلسلہ در سلسلہ بھی کم نہیں ہوگا
زمانہ کیسے سمجھے گا کہ ہم پر وجد ہے طاری
سرور و کیف و مستی کا اگر عالم نہیں ہوگا
اٹھو پھر آ رہے ہیں سب تمہیں للکارنے والے
کسی کے ہاتھ میں بھی امن کا پرچم نہیں ہوگا
یہ ممکن کس طرح ہوگا کہ اپنے شہر میں لوگو
خفا کوئی نہیں ہوگا کوئی برہم نہیں ہوگا
ہمارے پاس آئے شوق سے انصارؔ وہ لیکن
محبت کی کوئی رت پیار کا موسم نہیں ہوگا

غزل
ہماری آزمائش کا اگر کچھ غم نہیں ہوگا
قاضی انصار