ہم سفر راتوں کے سائے ہو گئے
چاند تارے راستوں میں سو گئے
قصۂ دل میں وفا کی بات پر
اس نے یوں دیکھا کہ ہم چپ ہو گئے
تم تو کوئی اجنبی ہو اجنبی
جو ہمارے تھے وہ تم کیا ہو گئے
منزلیں آواز دے کر تھک گئیں
قافلے گرد سفر میں کھو گئے
آج تک آنکھوں میں اک تصویر ہے
گو اسے دیکھے زمانے ہو گئے

غزل
ہم سفر راتوں کے سائے ہو گئے
مشتاق نقوی