EN हिंदी
ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے | شیح شیری
hum rashk ko apne bhi gawara nahin karte

غزل

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے

مرزا غالب

;

ہم رشک کو اپنے بھی گوارا نہیں کرتے
مرتے ہیں ولے ان کی تمنا نہیں کرتے

در پردہ انہیں غیر سے ہے ربط نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردا نہیں کرتے

یہ باعث نومیدی ارباب ہوس ہے
غالبؔ کو برا کہتے ہیں اچھا نہیں کرتے