EN हिंदी
ہم رہے پر نہیں رہے آباد | شیح شیری
hum rahe par nahin rahe aabaad

غزل

ہم رہے پر نہیں رہے آباد

جون ایلیا

;

ہم رہے پر نہیں رہے آباد
یاد کے گھر نہیں رہے آباد

کتنی آنکھیں ہوئیں ہلاک نظر
کتنے منظر نہیں رہے آباد

ہم کہ اے دل سخن تھے سر تا پا
ہم لبوں پر نہیں رہے آباد

شہر دل میں عجب محلے تھے
ان میں اکثر نہیں رہے آباد

جانے کیا واقعہ ہوا کیوں لوگ
اپنے اندر نہیں رہے آباد