EN हिंदी
ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی | شیح شیری
humne to ujaD aur basti dekhi

غزل

ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی

قاسم علی خان آفریدی

;

ہم نے تو اجاڑ اور بستی دیکھی
دنیا کی سبھی بلند اور پستی دیکھی

صورت پہ خیال اپنی آیا جس دم
یک لحظہ حباب وار پستی دیکھی

کتنوں کے معاش کی درستی دیکھی
کتنوں کی بہ خانہ فاقہ مستی دیکھی

دنیا ہے بسان قحبہ خوش دل غمگیں
روتی ہے کبھی کبھی تو ہنستی دیکھی

جس دست کی میں دراز دستی دیکھی
اس دست کی آخرش شکستی دیکھی

جس نے بستم کیا مکاں کو تعمیر
دیوار پھر اس مکاں کی کھسکتی دیکھی

با وصف عیاں ہے لیک بعضی خلقت
اس شوخ کی دید کو ترستی دیکھی

یہ طرفہ ہے ماجرا کہ کعبۂ دل میں
آفریدیؔ کی ہم نے بت پرستی دیکھی