ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں
ماضی کے تمام مصائب اک اک کر کے سامنے آتے ہیں
پھر مستقبل کے بھیانک چہرے پر جب نظریں پڑتی ہیں
اس ہیبت ناک تصور سے ہم ڈرتے ہیں گھبراتے ہیں
غیروں سے وہ ملتے رہتے ہیں خود جا جا کر تنہائی میں
میرا کیا ہے ذکر بھلا مرے سائے سے بھی شرماتے ہیں
مجھ میں اور میرے رقیبوں میں ہے فرق بس اتنا تھوڑا سا
ان کو صورت دکھلاتے ہیں مجھ کو آنکھیں دکھلاتے ہیں
شاید اس کل سے مراد ہوا کرتی ہے قیامت کی دوری
ذوقیؔ سے وہ اپنے جب بھی کبھی کل کا وعدہ فرماتے ہیں
غزل
ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں
محمد ایوب ذوقی