EN हिंदी
حد بدن میں میری ذات آ نہیں رہی ہے | شیح شیری
hadd-e-badan mein meri zat aa nahin rahi hai

غزل

حد بدن میں میری ذات آ نہیں رہی ہے

فرحت احساس

;

حد بدن میں میری ذات آ نہیں رہی ہے
بھاگی ہوئی ہے ایسی ہاتھ آ نہیں رہی ہے

اک ساتھ کر رہا ہوں اتنی بہت سی باتیں
ہونٹھوں پہ کہنے والی بات آ نہیں رہی ہے

سورج مرا پڑا ہے آنکھوں کے راستے میں
دن ڈھل چکا ہے کب کا رات آ نہیں رہی ہے

بازار میں گھرا ہوں اور شور ہو رہا ہے
میری سمجھ میں کوئی بات آ نہیں رہی ہے

دنیا سے بات کر کے بد ذات ہو گیا میں
اب میرے گھر مری ہی ذات آ نہیں رہی ہے

جس رات فرحتؔ احساس اپنی حدوں سے نکلے
وہ ماں کی کوکھ جیسی رات آ نہیں رہی ہے