EN हिंदी
حاشیے پر کچھ حقیقت کچھ فسانہ خواب کا | شیح شیری
hashiye par kuchh haqiqat kuchh fasana KHwab ka

غزل

حاشیے پر کچھ حقیقت کچھ فسانہ خواب کا

شاہد ماہلی

;

حاشیے پر کچھ حقیقت کچھ فسانہ خواب کا
اک ادھورا سا ہے خاکہ زندگی کے باب کا

رنگ سب دھندلا گئے ہیں سب لکیریں مٹ گئیں
عکس ہے بے پیرہن اس پیکر نایاب کا

ذرہ ذرہ دشت کا مانگے ہے اب بھی خوں بہا
منہ چھپائے رو رہا ہے قطرہ قطرہ آب کا

سانپ بن کر ڈس رہی ہیں سب تمنائیں یہاں
کارواں آ کر کہاں ٹھہرا دل بے تاب کا

کوہ تنہائی کا شاہدؔ ذرہ ذرہ ٹوٹنا
پارہ پارہ ہو گیا ہے اب جگر سیماب کا