حال دل کچھ جو سر بزم کہا ہے میں نے
وہ یہ سمجھے ہیں کہ الزام دیا ہے میں نے
منہ تو پھیرا ہے کبھی یہ بھی تو سوچا ہوتا
تمہیں چاہا ہے تمہیں پیار کیا ہے میں نے
لا سکو گے سر پیشانی وہ تابانی و نور
تمہیں اشعار میں جو بخش دیا ہے میں نے
کیا کہیں سیکھ لیے ہیں نئے انداز فریب
باندھتے ہو نئے پیماں یہ سنا ہے میں نے
تم نے دنیا کی طرح آنکھ پھرائی ہے تو کیا
یہ بھی اک جبر اسی دل پہ سہا ہے میں نے
ضبط کی داد نہ دی کوئی زمانے نے مجھے
خون کا گھونٹ بہ ہر حال پیا ہے میں نے
یہ غم تلخیٔ دوراں یہ محبت کا جنوں
خوب یہ درد بھی اک مول لیا ہے میں نے

غزل
حال دل کچھ جو سر بزم کہا ہے میں نے
سجاد باقر رضوی