گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا
وہ شام ڈھلنے سے پہلے صدا تو دیتا تھا
ہجوم کار میں پل بھر بھی اک بہانے سے
وہ اپنے قرب کا جادو جگا تو دیتا تھا
شریک راہ تھا وہ ہم سفر نہ تھا پھر بھی
قدم قدم پہ مجھے حوصلہ تو دیتا تھا
مجھی کو ملتی نہ تھی فرصت پذیرائی
وہ اپنے سچ کا مجھے آئنہ تو دیتا تھا
وہ چاند اور کسی آسماں کا تھا لیکن
افق افق کو مرے جگمگا تو دیتا تھا
میں اس کی آنچ میں تپ کر نہ ہو سکا کندن
وہ اپنے شعلۂ جاں کی ہوا تو دیتا تھا

غزل
گزرتے دن کے دکھوں کا پتہ تو دیتا تھا
ارمان نجمی