EN हिंदी
گر اپنے آپ میں انسان بڑھتا جا رہا ہے | شیح شیری
gar apne aap mein insan baDhta ja raha hai

غزل

گر اپنے آپ میں انسان بڑھتا جا رہا ہے

فرحت احساس

;

گر اپنے آپ میں انسان بڑھتا جا رہا ہے
تو پھر کیوں اس قدر بحران بڑھتا جا رہا ہے

سمٹتا جا رہا ہے دائرہ مالک مکاں کا
مکاں پر قبضۂ مہمان بڑھتا جا رہا ہے

مجھے لگتا ہے صحرا کی طرف جانا پڑے گا
در و دیوار کا احسان بڑھتا جا رہا ہے

بہت دن ہو گئے رویا نہ اپنے حال پہ شہر
دلوں میں خطۂ ویران بڑھتا جا رہا ہے

بہت سا حسن پہلی بار دیکھا ہے کسی نے
تو اس کی ہی طرف حیران بڑھتا جا رہا ہے

بدن خالی کرو اور کشتیٔ جاں کو بچاؤ
خطرناکی کا یہ سامان بڑھتا جا رہا ہے

نمو کرنا سنا ہے جانداروں کی صفت ہے
مگر یہ شہر تو بے جان بڑھتا جا رہا ہے

نہ جانے کتنے بھوکوں کی کفالت ہو رہی ہے
ہوس کاری کا دسترخوان بڑھتا جا رہا ہے

میاں احساسؔ جی کچھ شاعری بھی کرتے رہیے
یہ مانا آپ کا دیوان بڑھتا جا رہا ہے