EN हिंदी
غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا | شیح شیری
gham sahte hain par ghamza-e-beja nahin uThta

غزل

غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا

منیرؔ  شکوہ آبادی

;

غم سہتے ہیں پر غمزۂ بے جا نہیں اٹھتا
مرتے ہیں مگر ناز مسیحا نہیں اٹھتا

کب پان رقیبوں کو عنایت نہیں ہوتے
کس روز مرے قتل کا بیڑا نہیں اٹھتا

بل پڑتے ہیں پہونچے میں لچکتی ہے کلائی
نازک ہیں بہت پھولوں کا گجرا نہیں اٹھتا

فرمائیے ارشاد پہاڑوں کو اٹھا لوں
پر رشک کا صدمہ نہیں اٹھتا نہیں اٹھتا

کوچہ میں منیرؔ ان کے میں بیٹھا تو وہ بولے
ہے ہے مرے دروازے سے پہرا نہیں اٹھتا