EN हिंदी
غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی | شیح شیری
gham-e-duniya se gar pai bhi fursat sar uThane ki

غزل

غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی

مرزا غالب

;

غم دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی

کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یارب
قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی

لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا پنہاں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی

انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھا
اٹھے تھے سیر گل کو دیکھنا شوخی بہانے کی

ہماری سادگی تھی التفات ناز پر مرنا
ترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی

لکد کوب حوادث کا تحمل کر نہیں سکتی
مری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کی ناز اٹھانے کی

کہوں کیا خوبی اوضاع ابنائے زماں غالبؔ
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی