گلیاں جھانکیں سڑکیں چھانیں دل کی وحشت کم نہ ہوئی
آنکھ سے کتنا لاوا ابلا تن کی حدت کم نہ ہوئی
ڈھب سے پیار کیا ہے ہم نے اس کے نام پہ چپ نہ ہوئے
شہر کے عزت داروں میں کچھ اپنی عزت کم نہ ہوئی
من دھن سب قربان کیا اب سر کا سودا باقی ہے
ہم تو بکے تھے اونے پونے پیار کی قیمت کم نہ ہوئی
جن نے اجاڑی دل کی کھیتی ان کی زمینیں ختم ہوئیں
ہم تو رئیس تھے شہر وفا کے اپنی ریاست کم نہ ہوئی
اب بھی اتنا تر و تازہ ہے جیسے اول دن کا ہو
واہ رے اپنی کاوش ناخن زخم کی لذت کم نہ ہوئی
باقرؔ کو تم خوب سمجھ لو رنجش ہے یہ دکھاوے کی
یوں تم سے بے زار پھرے ہے دل سے چاہت کم نہ ہوئی

غزل
گلیاں جھانکیں سڑکیں چھانیں دل کی وحشت کم نہ ہوئی
سجاد باقر رضوی