EN हिंदी
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر | شیح شیری
ghairon se mil chale tum mast-e-sharab ho kar

غزل

غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر

میر تقی میر

;

غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
غیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کر

اس روئے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر

کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہو کر

پردہ رہے گا کیوں کر خورشید خاوری کا
نکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر

یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہو کر

آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر

شرم و حیا کہاں تک ہیں میرؔ کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہو کر