EN हिंदी
فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں | شیح شیری
fasl-e-gul kuchh bhi nahin baad-e-saba kuchh bhi nahin

غزل

فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں

مسعودہ حیات

;

فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں
تیری محفل ہو تو جنت کی فضا کچھ بھی نہیں

جان و دل کر دیے ہم نے تری راہوں میں نثار
اور ہمارے لیے تہمت کے سوا کچھ بھی نہیں

پکڑے جائیں گے ہمیں حشر میں بے جرم و قصور
اور گناہ گار کو دنیا میں سزا کچھ بھی نہیں

ان کے دل پر مرا احساس ستم بھی ہے گراں
غیر کی شعلہ بیانی کا گلا کچھ بھی نہیں

جام جم ہو کہیں گردش میں مگر پھر بھی حیاتؔ
چشم ساقی سے نہ چھلکے تو مزا کچھ بھی نہیں