فریب محبت سے غافل نہیں ہوں
جو مست جنوں ہو وہ دل نہیں ہوں
انہیں عزم ترک تعلق مبارک
میں ان کے ارادوں میں حائل نہیں ہوں
تری بزم سے ہے بس اتنا تعلق
کہ شامل بھی ہوں اور شامل نہیں ہوں
قوم اور اغیار کے مشوروں سے
میں ایسی عنایت کا قائل نہیں ہوں
سنبھل کر ذرا اے محبت کی کشتی
میں طوفاں ہی طوفاں ہوں ساحل نہیں ہوں
مرا سوز ہستی ہے دور از ندامت
میں پروانہ ہوں شمع محفل نہیں ہوں
غزل
فریب محبت سے غافل نہیں ہوں
شکیل بدایونی

