EN हिंदी
فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا | شیح شیری
faqirana tabiat thi bahut bebak lahja tha

غزل

فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا

منیش شکلا

;

فقیرانہ طبیعت تھی بہت بے باک لہجہ تھا
کبھی مجھ میں بھی ہنستا کھیلتا اک شخص رہتا تھا

بگولے ہی بگولے ہیں مری ویران آنکھوں میں
کبھی ان رہ گزاروں میں کوئی دریا بھی بہتا تھا

تجھے جب دیکھتا ہوں تو خود اپنی یاد آتی ہے
مرا انداز ہنسنے کا کبھی تیرے ہی جیسا تھا

کبھی پرواز پر میری ہزاروں دل دھڑکتے تھے
دعا کرتا تھا کوئی تو کوئی خوش باش کہتا تھا

کبھی ایسے ہی چھائی تھیں گلابی بدلیاں مجھ پر
کبھی پھولوں کی صحبت سے مرا دامن بھی مہکا تھا

میں تھا جب کارواں کے ساتھ تو گل زار تھی دنیا
مگر تنہا ہوا تو ہر طرف صحرا ہی صحرا تھا

بس اتنا یاد ہے سویا تھا اک امید سی لے کر
لہو سے بھر گئیں آنکھیں نہ جانے خواب کیسا تھا