EN हिंदी
ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے | شیح شیری
ek lamha jo kaTe dusra phir bhaari hai

غزل

ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے

منموہن تلخ

;

ایک لمحہ جو کٹے دوسرا پھر بھاری ہے
ہوئی اک عمر کہ اپنی تگ و دو جاری ہے

کہہ کے یہ مجھ سے کہ اس شہر میں ہو تم کب سے
اینٹ سر پر کسی نے جیسے کہ دے ماری ہے

اور لے آئے ہو تم باتیں یہ دنیا بھر کی
اپنی باتوں سے یہاں پہلے ہی بے زاری ہے

کوئی جس بات سے خوش ہے تو خفا دوسرا ہے
کچھ بھی کہنے میں کسی سے یہی دشواری ہے

ساتھ لے لیں یہ ذرا خود کو تو بس چلتے ہیں
اور رہنے کے نہیں چلنے کی تیاری ہے

داد جب مد مقابل کے سخن کی دی آج
دوست کہتے ہیں کہ مطلب کی طرف داری ہے

خود کو یا دوسروں کو تلخؔ پریشاں نہ کرو
کچھ نہیں تم کو فقط جینے کی بیماری ہے