EN हिंदी
ایک بے منظر اداسی چار سو آنکھوں میں ہے | شیح شیری
ek be-manzar udasi chaar-su aankhon mein hai

غزل

ایک بے منظر اداسی چار سو آنکھوں میں ہے

صدیق مجیبی

;

ایک بے منظر اداسی چار سو آنکھوں میں ہے
جتنا باقی ہے مرے دل کا لہو آنکھوں میں ہے

جسم و جاں پامال صدمات تغافل ہو چکے
اب تو جو ہے ماورائے گفتگو آنکھوں میں ہے

ختم ہوتا ہی نہیں بیدار لمحوں کا عذاب
نیند جیسے کوئی زخم بے رفو آنکھوں میں ہے

تشنگی کا اک پرندہ چیختا ہے ذہن میں
قریۂ جاں کی یہ کیسی آب جو آنکھوں میں ہے

بہتے اشکوں پر لکھی تحریر روشن ہے ابھی
ایک وعدہ ایک پیکر ہو بہ ہو آنکھوں میں ہے

میں بیاباں کی بکھرتی دھوپ ہوں بے سمت و صوت
اب کوئی سودا ہے سر میں اور نہ تو آنکھوں میں ہے

کس طرف دیکھوں مجیبیؔ کس سے رشتہ جوڑ لوں
روبرو دنیا ہے پھر بھی دشت ہو آنکھوں میں ہے