EN हिंदी
وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف | شیح شیری
wo kahan waqt ki moDenge inan aur taraf

غزل

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف

شان الحق حقی

;

وہ کہاں وقت کہ موڑیں گے عناں اور طرف
دل کسی اور طرف ہے تو زباں اور طرف

ہیں ابھی اہل ہوس سود و زیاں کے ہی اسیر
پھیرتے ہیں یوں ہی باتوں سے گماں اور طرف

آہ سوزاں کو مری دیکھ نہ دیکھا ہوگا
کہ ہوا اور طرف کی ہو دھواں اور طرف

رخ رہا تا بہ سحر اور ہی جانب اپنا
اور تھا مطلع انوار فشاں اور طرف

بیٹھ کر رو بہ قضا خوش ہیں کہ گویا ہم نے
موڑ ڈالی ہے زمانے کی عناں اور طرف

یوں پلٹ جاتی ہیں ہر لحظہ وہ نظریں جیسے
جوڑ کر تیر کو کھنچتی ہے کماں اور طرف

چاہئے باغ کو بس ایک لہو کا چھینٹا
آن کی آن میں جاتی ہے خزاں اور طرف