EN हिंदी
دور سے بات خوش نہیں آتی | شیح شیری
dur se baat KHush nahin aati

غزل

دور سے بات خوش نہیں آتی

میر محمدی بیدار

;

دور سے بات خوش نہیں آتی
یوں ملاقات خوش نہیں آتی

تجھ بن اے ماہ رو کبھی مجھ کو
چاندنی رات خوش نہیں آتی

جائے بوسہ کے گالیاں دیجے
یہ عنایات خوش نہیں آتی

نہ مے و جام ہے نہ ساقی ہے
ایسی برسات خوش نہیں آتی

اس کے مذکور کے سوا بیدارؔ
اور کچھ بات خوش نہیں آتی