EN हिंदी
دور ہیں وہ اور کتنی دور | شیح شیری
dur hain wo aur kitni dur

غزل

دور ہیں وہ اور کتنی دور

شکیل بدایونی

;

دور ہیں وہ اور کتنی دور
پھر بھی مری نظروں کے حضور

رنج و مصیبت جور و ستم
آپ کی خاطر سب منظور

دل پر بیتے لب پہ نہ آئے
ہائے محبت کا دستور

حسرت دید از دید بلند
حور سے بہتر وعدۂ حور

پردۂ رنگ و بو تو اٹھاؤ
ہوگا کوئی نہ کوئی ضرور

دور ترقی کیا ہے شکیلؔ
دنیا کی عقلوں کا فتور