دنیا کا ہے اجالا پتھر
یزداں تیرا کالا پتھر
چوٹی تک جس نے پہنچایا
اس کو دیکھ سنبھالا پتھر
منہ تک اب لے جانا کٹھن ہے
بن جاتا ہے نوالا پتھر
تتلی آن کے اس پر بیٹھے
پھول بنے ہے سالا پتھر
کچھ تو تھا مجھ میں جب اس نے
میری سمت اچھالا پتھر
لعل و گہر بازار کو دے دے
گھر کے لیے بچا لا پتھر
جبر جو خیر سے الجھا سمجھا
الا خدا تھا بنا لا پتھر
میرا تو اک رنگ بدن ہے
ان کے لئے ہے جیالا پتھر
اس کے بنا تھا جینا کیسا
وہ نہ ملا تو کہا لا پتھر
غزل
دنیا کا ہے اجالا پتھر
مہدی جعفر