دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں
بہت کم لوگ خود کو جانتے ہیں
خزاں کے خشک پتوں کو نہ چھیڑو
تھکے ماندے مسافر سو رہے ہیں
ہماری غم گساری میں شب غم
چراغ آہستہ آہستہ جلے ہیں
نشاں پاتا نہیں کوئی کسی کا
سبھی اک دوسرے کو ڈھونڈتے ہیں
بس اک موج ہوائے غم ہے کافی
ارادے کیا گھروندے ریت کے ہیں
خدا دل کا نگر آباد رکھے
ہزاروں طرح کے غم پل رہے ہیں
شب مہتاب یادیں گل رخوں کی
سفینے موج خوں میں تیرتے ہیں
غزل
دلوں کے آئنہ دھندلے پڑے ہیں
فضیل جعفری

