EN हिंदी
دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے | شیح شیری
dilon ka haal wo be-etibar kya jaane

غزل

دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے

مشتاق نقوی

;

دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے
جسے نہ پیار ملا ہو وہ پیار کیا جانے

ادا سے آئی چمن میں ادا سے لوٹ گئی
گلوں پہ بیت گئی کیا بہار کیا جانے

نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اور نہ بے خوابی
کہاں رکی ہے شب انتظار کیا جانے

اسے بھلائے ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن
یہ کون چھوتا ہے دل بار بار کیا جانے

پھر ایک بار چلو اس گلی میں ہو آئیں
وہ مل ہی جائے سر رہ گزار کیا جانے