دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے
جسے نہ پیار ملا ہو وہ پیار کیا جانے
ادا سے آئی چمن میں ادا سے لوٹ گئی
گلوں پہ بیت گئی کیا بہار کیا جانے
نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اور نہ بے خوابی
کہاں رکی ہے شب انتظار کیا جانے
اسے بھلائے ہوئے مدتیں ہوئیں لیکن
یہ کون چھوتا ہے دل بار بار کیا جانے
پھر ایک بار چلو اس گلی میں ہو آئیں
وہ مل ہی جائے سر رہ گزار کیا جانے

غزل
دلوں کا حال وہ بے اعتبار کیا جانے
مشتاق نقوی