دل طلب گار تماشا کیوں تھا
یعنی حسرت کش دنیا کیوں تھا
دن بہر حال گزر ہی جاتے
دل کا احسان اٹھایا کیوں تھا
سخت بیگانہ تھا لیکن یارب
اتنا مانوس وہ چہرا کیوں تھا
جز غزل خاک تھا دامن میں مرے
اس نے پھر پیار سے دیکھا کیوں تھا
وہ اگر میری رسائی میں نہ تھا
آئینے میں کوئی ویسا کیوں تھا
آنکھ کو شوق کہ دیکھے اس کو
دل کا پچھتاوا کہ دیکھا کیوں تھا
حاصل بزم ہے پروانے کی راکھ
رات بھر شمع کا چرچا کیوں تھا
صبح کے نام سے گھبراتا ہوں
جی کو راس آیا اندھیرا کیوں تھا
صحبت گل بدناں میں شہرتؔ
دل میں کانٹا سا کھٹکتا کیوں تھا

غزل
دل طلب گار تماشا کیوں تھا
شہرت بخاری