EN हिंदी
دل سرد ہو تو وا لب گفتار کیا کریں | شیح شیری
dil sard ho to wa lab-e-guftar kya karen

غزل

دل سرد ہو تو وا لب گفتار کیا کریں

معین احسن جذبی

;

دل سرد ہو تو وا لب گفتار کیا کریں
منصور کیا بنیں ہوس دار کیا کریں

اب کیا سنائیں یوسف و زنداں کی داستاں
پھر گرم جنس درد کا بازار کیا کریں

وہ ساغر نشاط ہو یا جام زہر غم
ساقی نے جب دیا ہو تو انکار کیا کریں

دیکھے نہ اپنے ساتھ جو کوئی تو کیا دکھائیں
سمجھے نہ کوئی بات تو اصرار کیا کریں

جذبیؔ نگاہ میں ہے برہنہ سری کی شان
ہم احترام طرۂ دستار کیا کریں