EN हिंदी
دل مرا آج یار میں ہے گا | شیح شیری
dil mera aaj yar mein hai ga

غزل

دل مرا آج یار میں ہے گا

شیخ ظہور الدین حاتم

;

دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا

گالیاں مجھ کو دے ہے دینے دو
کچھ نہ بولو خمار میں ہے گا

سن کے کہنے لگا تو جانے ہے
کہ نشے کے اتار میں ہے گا

گالیاں میں تو سب کو دیتا ہوں
ایک تو کس شمار میں ہے گا

حاتمؔ ایسی کہاں ہے لذت وصل
جو مزا انتظار میں ہے گا