دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
گالیاں مجھ کو دے ہے دینے دو
کچھ نہ بولو خمار میں ہے گا
سن کے کہنے لگا تو جانے ہے
کہ نشے کے اتار میں ہے گا
گالیاں میں تو سب کو دیتا ہوں
ایک تو کس شمار میں ہے گا
حاتمؔ ایسی کہاں ہے لذت وصل
جو مزا انتظار میں ہے گا
غزل
دل مرا آج یار میں ہے گا
شیخ ظہور الدین حاتم

