EN हिंदी
دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے | شیح شیری
dil mein kuchh hai bayan mein kuchh hai

غزل

دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے

مشتاق انجم

;

دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے
آپ کی داستان میں کچھ ہے

میرے وہم و گمان سے بڑھ کر
ان کے تیر و کمان میں کچھ ہے

پاؤں رکھیے سنبھل کے بستی میں
گھر میں کچھ سائبان میں کچھ ہے

پیرو مذہب محبت ہوں
دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے

جب دلوں میں رہے نہ گنجائش
ماں نہ سمجھے مکان میں کچھ ہے

رخ ہوا کا نہ دیکھیے انجمؔ
دیکھیے بادبان میں کچھ ہے