دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
وحشت کے جنگل میں کب لگ پریشاں ہو غم کے بھاروں کے سنگوں میں رہیے
جو کوئی کہ ہے دشت وحشت کا ساکن اسے ہوش کے شہریوں سے ہے نفرت
یہ دیوانگی کا نپٹ خوب عالم ہے زنجیر کی جا النگوں میں رہیے
پندار ہستی سیں وہمی خیالوں نے کثرت کی تہمت لگائے ہیں ناحق
دراصل میں جوش طوفان وحدت ہے جیوں موج دریا امنگوں میں رہیے
اس سرو قامت کے جوش محبت میں از بس کہ آزاد سب سیں ہوا ہوں
مانند قمری بدن کوں لگا را کہہ یاہو کے دم بھر ملنگوں میں رہیے
ناحق سراجؔ آہ حسرت کی آتش سیں ہر دم میں سو بار جنباں سبب کیا
یکبار شعلے پہ گرنے کی طرحوں کوں معلوم کرنے پتنگوں میں رہیے
غزل
دل میں خیالات رنگیں گزرتے ہیں جیوں باس پھولوں کے رنگوں میں رہیے
سراج اورنگ آبادی

