دل کی بساط پہ شاہ پیادے کتنی بار اتارو گے
اس بستی میں سب شاطر ہیں تم ہر بازی ہارو گے
پریم پجاری مندر مندر دل کی کتھا کیوں گاتے ہو
بت سارے پتھر ہیں پیارے سر پتھر سے مارو گے
دل میں کھینچ کے اس کی صورت آج تو خوش خوش آئے ہو
کل سے اس میں رنگ بھرو گے کل سے نقش ابھارو گے
سارے دن تو اس کی گلی میں آتے جاتے گزری ہے
اب بولو اب رات ہوئی ہے کیسے رات گزارو گے
پیار کی آنکھیں مند جائیں گی دل کا دیا بجھ جائے گا
کب تک لہو جلاؤ گے تم کب تک کاجل پارو گے
جس کو داتا مان کے تم نے بھیک لگن کی مانگی ہے
اس نے بھی جو سلام کیا تو دامن کہاں پسارو گے
باقرؔ صاحب مہا کوی ہو بڑے گرو کہلاتے ہو
اپنا دکھ سکھ بھول گئے تو کس کا خال سنوارو گے
کلی کلی اشکوں کی لڑیاں پھول پھول یہ کومل گیت
کس کی سیج سجائی باقرؔ کس کا روپ نکھاروگے

غزل
دل کی بساط پہ شاہ پیادے کتنی بار اتارو گے
سجاد باقر رضوی