EN हिंदी
دل دیا جی دیا خفا نہ کیا | شیح شیری
dil diya ji diya KHafa na kiya

غزل

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

آصف الدولہ

;

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا
بے وفا تجھ سے سے میں نے کیا نہ کیا

غم دوری کو تیری دیکھ کے یار
آج تک جان سے جدا نہ کیا

فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا
کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا

یہ ہمیں تھے کہ ان جفاؤں پر
پھر کبھی تجھ ستی گلا نہ کیا

کون سی شب تھی ہجر کی آصفؔ
کہ یہ دل شمع ساں جلا نہ کیا