EN हिंदी
دل چرانا یہ کام ہے تیرا | شیح شیری
dil churana ye kaam hai tera

غزل

دل چرانا یہ کام ہے تیرا

مصحفی غلام ہمدانی

;

دل چرانا یہ کام ہے تیرا
لے گیا ہے تو نام ہے تیرا

ہے قیامت بپا کہ جلوے میں
قامت خوش خرام ہے تیرا

جس نے عالم کیا ہے زیر و زبر
یہ خط مشک فام ہے تیرا

دید کرنے کو چاہئیں آنکھیں
ہر طرف جلوہ عام ہے تیرا

کس کا یہ خوں کیے تو آتا ہے
دامن افشاں تمام ہے تیرا

ہو نہ ہو تو ہماری مجلس میں
تذکرہ صبح و شام ہے تیرا

تیغ ابرو ہمیں بھی دے اک زخم
سر پہ عالم کے دام ہے تیرا

تو جو کہتا ہے مصحفیؔ ادھر آ
مصحفیؔ کیا غلام ہے تیرا