EN हिंदी
دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں | شیح شیری
dhul hi dhul aDi hai mujh mein

غزل

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں

ناہید ورک

;

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں
سبز اک شاخ جلی ہے مجھ میں

کتنی ویرانی ہے میرے اندر
کس قدر تیری کمی ہے مجھ میں

دور تک اب تو خموشی ہے بس
دور تک اب تو یہی ہے مجھ میں

مان لیتی ہوں مکمل ہو تم
مان لیتی ہوں کمی ہے مجھ میں

خشک ہونے ہی نہیں دیتی آنکھ
وہ جو ساون کی جھڑی ہے مجھ میں