EN हिंदी
دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی | شیح شیری
dekh usko ek aah humne kar li

غزل

دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی

مصحفی غلام ہمدانی

;

دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لی
حسرت سے نگاہ ہم نے کر لی

کیا جانے کوئی کہ گھر میں بیٹھے
اس شوخ سے راہ ہم نے کر لی

بندہ پہ نہ کر کرم زیادہ
بس بس تری چاہ ہم نے کر لی

جب اس نے چلائی تیغ ہم پر
ہاتھوں کی پناہ ہم نے کر لی

نخوت سے جو کوئی پیش آیا
کج اپنی کلاہ ہم نے کر لی

زلف‌ و رخ مہوشاں کی دولت
سیر شب ماہ ہم نے کر لی

کیا دیر ہے پھر یہ ابر رحمت
تختی تو سیاہ ہم نے کر لی

دی ضبط میں جب کہ مصحفیؔ جاں
شرم اس کی گواہ ہم نے کر لی