EN हिंदी
دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے | شیح شیری
de KHuda wusat to sab ke kaam aana chahiye

غزل

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے

محمد حازم حسان

;

دے خدا وسعت تو سب کے کام آنا چاہیے
دل میں دشمن کے بھی گھر اپنا بنانا چاہیے

آپ کے دل میں جگہ میرے لئے کیا سچ ہے یہ
اللہ اللہ اس سے بہتر کیا ٹھکانہ ہے

گر کبھی نفرت کی کوئی لہر اٹھے قلب سے
جس طرح ہو اس کو تو قابو میں لانا چاہیے

بانٹتے ہی چاہیے رہنا محبت کے گلاب
دل کے گلشن کو کہا کس نے سجانا چاہیے

انجمن کوئی ہو اور دامن کسی کا بھی ہو وہ
خوشبوؤں میں سب کے دامن کو بسانا چاہیے

راز دل افشا نہ ہو حسانؔ ہے بہتر یہی
حال دل کھل کر کبھی لب پر نہ لانا چاہیے