EN हिंदी
دست منعم مری محنت کا خریدار سہی | شیح شیری
dast-e-munim meri mehnat ka KHaridar sahi

غزل

دست منعم مری محنت کا خریدار سہی

مجروح سلطانپوری

;

دست منعم مری محنت کا خریدار سہی
کوئی دن اور میں رسوا سر بازار سہی

پھر بھی کہلاؤں گا آوارۂ گیسوئے بہار
میں ترا دام خزاں لاکھ گرفتار سہی

جست کرتا ہوں تو لڑ جاتی ہے منزل سے نظر
حائل راہ کوئی اور بھی دیوار سہی

غیرت سنگ ہے ساقی یہ گلوئے تشنہ
تیرے پیمانے میں جو موج ہے تلوار سہی

میں نے دیکھی دیکھی اسی میں غم دوراں کی جھلک
بے خبر رنگ جہاں سے نگہ یار سہی

ان سے بچھڑے ہوئے مجروحؔ زمانہ گزرا
اب بھی ہونٹوں میں وہی گرمئ رخسار سہی