دست امکاں میں کوئی پھول کھلایا جائے
خیمۂ خواب میں تعبیر کو لایا جائے
آؤ چلتے ہیں کسی اور ہی دنیا میں جہاں
خود کو غم کر کے کسی اور کو پایا جائے
دل میں وحشت جو نہیں دشت نوردی کیسی
بے خودی چھوڑ کے اب ہوش میں آیا جائے
جس کا ہر گوشہ سسکتا ہے صدا دیتا ہے
اس علاقے میں کبھی لوٹ کے جایا جائے
ایک مدت سے تمنا بھی تھی مصروف ریاض
نغمۂ قلب کو اب ساز پہ گایا جائے
غزل
دست امکاں میں کوئی پھول کھلایا جائے
راشد انور راشد